جنگ گروپ کے ذمہ داراں اور ما لکان کے نام
پنتیس سال سے جنگ کے کالم کا قاری ہوں۔
1
حامد میر ایک عبقری شخصیت وارث میر کے فرزند ہیں۔لیکن جیو ٹیلی ویژن ااور کالموں میں قوم میں انتشار وفساد پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں۔
سلیمان تاثیر پر جو پروگرام کئے آپ ذرا دوبارہ ریکارڈ میں الفاظ کو ملاحظہ فرمائے لوگوں کو قتل پراکسایا گیاہے۔
حامدمیر نے صوبہ سرحد کا نام تبدیل کرنے کے موقع پر جیو اور اخبار میں خوب مہم چلائی کہ پختون قوم اپنی شناخت سے محروم ہیں صوبہ کانام پختون خواہ ہونا ہونا چاہیے۔
صوبہ کا نام نسلی بنیاد پر رکھ دیاگیا نام رکھتے ہی صوبہ میں فساد پھیل گیا ہزارہ والوں نے ایجی ٹیشن شروع کردی کہ صوبہ ہزارہ الگ ہوناچاہیے۔
یہ فساد پنجاب پہنچا جنوبی پنجاب سے آوازیں آنا شروع ہو گئیں سرائیکی صوبہ بنایا جائے
اب پتا نہیں پاکستان میں پھیلا یا ہوا فساد تھمنے پائے گا؟۔
2
جنگ گروپ میں دوسری نادر شخصیت نجم سیٹھی ہیں۔
چند روز قبل جیو پر قائداعظیم پر تنقید کرتے ہوئے کہا”قائد اعظیم کا گورنر جنرل بنے اور اردو کو قومی زبان قراردینے پر قائد اعظیم کوڈکٹیٹرکہا مزید کہا کہ حماقت کی ”
کسی بڑی شخصیت سے نقطہ نظر سے اختلاف ہونے پر کہا جاتاہے۔کہ ایسے نہیں ہونا چاہیے تھا۔خود نجم سیٹھی کے بارے میں عوام الناس میں مشہور سی ای اے کے ایجنٹ ہیں۔
حیرت ہے جنگ گروپ نے نجم سیٹھی کو اتنا بڑا مقام کیو ں دے رکھا ہے؟
3
جنگ گروپ کی تیسری نایاب شخصیت ثناء بچہ
پروگرام” لیکن” پر تبصرہ کروں تو بات طویل ہو جائے گی۔
ثناء نے اپنے ایک کالم میں لکھا کہ قراداد پاکستان کی ڈرافٹنگ سر ظفراللہ (احمدی فرقہ) نے کی تھی ۔
جنگ گروپ نوجوان کو گمرا ہ کرکے کہاں لے جانا چاہتاہے؟
4
جیو پر خبروں کے آخر میں انڈین یا کسی دوسرے ملک کی اداکاراؤں کو رقص کرتے برہنہ جسم کے منا ظر دکھائے جاتے ہیں۔
میرا یہ سوال ہے۔کیا جنگ گروپ کے ذمہ داران و مالکان اپنی بیٹیوں کو اس حالت میں دیکھنا پسند کریں گے؟
ملتی جلتی تحریریں



جنوری ۰۶ ، ۲۰۱۲
خاموشاش تماشائی
ٹیگز: 

Pingback: جنگ گروپ کے ذمہ داراں اور ما لکان کے نام - پاکستان کی آواز
حامد میر پر آپکا کوئی بھی الزام منتقی نہیں ہے، سلمان تاثیر کے قتل پر کسی نے کسی کو نہیں اکسایا، ایک غیرت مند شخص نے اپنے طور فیصلے کیا، حامد میر کا پروگرام دیکھ کر نہیں اور جہاں تک خیبر پختونخان نام کا تعلق تو مزیبی، عقلی اور آئینی غرض کسی بھی حوالے سے کوئی نامناسب مطالبہ نہیں ہے اور اگر سرائیکی، ہزارے وال اور مہاجر بھی اپنا صوبہ چاہتے ہیں تو یہ کوئی غلط بات نہیں۔
کاشف نصیر(اقتباس کے ساتھ جواب دیں) (جواب دیں)
Pingback: جنگ گروپ کے ذمہ داراں اور ما لکان کے نام | TEA BREAK
1 ۔ پختون خوا نام درست نہيں ہے کيونکہ متعلقہ صوبے ميں پختون 50 فيصد سے کم ہيں ۔ ديگر لسانی يا گروہی بنياد پر تقسيم کا نتيجہ انتشار کے سوا کچھ نہيں ہو گا
2 ۔ اُردو نافذ کرنے پر قائد اعظم کو الزام دينے والے حقائق يا تاريخ سے نابلد ہيں يا منافرت کا ارادہ رکھتے ہيں ۔ اُردو ہی ايک ايسی زبان تھی جسے مجوزہ پاکستان کے پورے علاقہ ميں سمجھا جاتا تھا پھر بھی قائد اعظم نے خود سے اسے قومی زبان نہيں کہا تھا بلکہ بنگال کے 3 چوٹی کے رہنماؤں نے پاکستان بننے سے پيشتر ہی قائد اعظم کے سامنے تحريک پيش کی تھی کہ زبان اُردو رکھی جائے
3 ۔ قرار دادِ لاہور جو بعد ميں قرار دادِ پاکستان کہلائی بنگال کے اس وقت کے وزيرِ اعلٰی اور مسلم ليگ کے بنگالی رہنما اے کے فضلِ حق صاحب نے قائدِ اعظم کے ارشادات کی روشنی ميں پيش کی تھی ۔ ظفر اللہ تو 1940ء سے قبل قائد اعظم کے نزديک کہيں تھے ہی نہيں تو قائد اعظم نے اس سے قرارداد کيسے لکھوائی ۔ دوسری بات يہ کہ ظفر اللہ قائد اعظم کو مسلمان ہی نہيں سمجھتا تھا تو وہ مسلمانوں کا ملک کيسے مانگ سکتا تھا ؟ تيسری بات ظفر اللہ کے مذہبی رہنما نے اُسے قاياں کو آزاد کروانے کا کام سونپا تھا نہ کہ پاکستان بنوانے کا
4 ۔ جيو ٹی وی چينل کی لگ بھگ تمام خبروں ميں ننگ دھڑنگ ناچ وغير تکليف دہ ہيں ۔ نجانے کيا مقصد ہے اس کا
افتخار اجمل بھوپال(اقتباس کے ساتھ جواب دیں) (جواب دیں)
انکل جی بلاگ پہ تشریف لانے کا اور تفصیلی جواب سے نوازنے کا اور علم میں اضافہ فرمانے کا بہت شکریہ
عدنان شاہد(اقتباس کے ساتھ جواب دیں) (جواب دیں)
بھائی اگر آپ پختونخواہ کے مطالبے کو جائز مانتے ہیں تو پھر تو پاکستان میں ہر بولی بولنے والا اپنے الگ صوبے کا مطالبہ کرے گا اور جو کہ میرے خیال میں قطعا پاکستان کےلئے فائدہ مند نہیں ہے. میرے خیال سے اگر نئے صوبے بنیں تو ان کی تقسیم انتطامی بنیادوں پہ ہونی چاہئیے ناں کہ لسانی بنیادوں پہ. اور رہ گئی بات حامد میر کی یا کسی اور اینکر کی تو میں کسی کو بھی پسند نہیں کرتا کیونکہ میرے نزدیک یہ سبھی کسی نہ کسی ملک دشمن ایجنسی کے ایجنڈے کو سپورٹ کرتے ہیں اس لئے میں ان کے پروگرامز دیکھتا ہی نہیں
عدنان شاہد(اقتباس کے ساتھ جواب دیں) (جواب دیں)