پاکستان پر امریکی حملے کا پلان [باب نمبر 2]
امریکہ میں اس وقت پاکستان کے ایٹمی مراکز پر حملے کی منصوبہ بندی ہورہی ہوگی۔ مجھے یہ گمان اس لئے ہوا کہ انہوں نے عراق کے خلاف کئے گئے “آپریشن ڈیزرٹ سٹارم”کی دس برس قبل ہی منصوبہ بندی کرلی تھی۔ یہ ان کا مخصوص انداز ہے ، پہلے وہ منصوبوں کو افسانوی (fictional)انداز میں پیش کرتے ہیں ، پھر انہیں حقیقت کا روپ دیتے ہیں۔ بظاہر ایک امریکی تھنک ٹینک کی طرف سے پاکستان کے وجود پر سوالیہ نشان لگا کر بے پر کی خبر اڑانے کے اس واقعے پر زیادہ پریشانی کا اظہار بلاوجہ معلوم ہوتا ہے، لیکن جب ہم اس کے مضمرات پر غور کرتے ہیں تو اسے نظرانداز کرنا خطرے سے خالی نظر نہیں آتا۔ اس تھیوری میں ایک اہم نکتہ یہ تھا کہ امریکہ آخر کار پاکستان کی ایٹمی صلاحیت پر حملہ کرکے اسے تہس نہس کردیتا ہے۔ اس سے قبل کریش آف 79 کے نام سے ایک افسانوی ناول لکھا گیا ، بعد میں ایران میں عین ایسے ہی منصوبے پر عمل کیا گیا۔ اس لئے امریکہ میں بننے والے حالیہ منصوبے کو سرسری طور پر نہیں دیکھنا چاہئیے
صیہونی ایجنڈا اور پاکستان [باب نمبر1]
امریکہ ان شاء اللہ یہ جنگ ہار جائے گا اس لئے کہ اس جنگ کی بنیاد ہی دھوکے پر رکھی گئی ہےاور یہ کسی اخلاقی اور قانونی جواز سے محروم ہے۔ عسکری اور سیاسی دونوں محاذوں پر امریکی ناکامی کے آثار بتدریج نمودار ہورہے ہیں۔ حیرت اس بات پر ہے کہ افغان تاریخ کے شناو اور افغان قوم کے مزاج شناس لوگوں پر جو حقیقت ہمیشہ سے عیاں تھی ، امریکی دانش وروں اور منصوبہ سازوں کو آج تک کیوں سمجھ نہیں آئی۔ یہی خلا امریکی پالیسی کا بنیادی سقم ہے۔ دراصل یہ اسرائیل کی داخلی سلامتی کے تقاضے ہیں جو امریکی پالیسی سازوں کے اعصاب اور ذہنوں پر گہرااثر رکھتے ہیں۔ پاکستان کی پالیسی بھی اس پس منظر سے ناآشنائی کی وجہ سے ناکارہ ہوکررہ گئی ہے۔ حکومت پاکستان نے امریکہ کا ساتھ دینے کا فیصلہ فورا کیا۔ اب سے فیصلے کے منفی اثرات کے پرت کھلنا شروع ہوگئے ہیں۔ گن پوائنٹ پر کئے گئے فیصلے کو آپ دانش اور حکمت نہیں کہہ سکتے، یہ تو ایسا ہی ہے کوئی ڈاکو آپ کی کنپٹی پر پستول رکھ کر زہر کا پیالہ پینے کا حکم
دیباچہ (ایفائے عہد از جنرل حمید گل)
جرنیل از: سیف اللہ خالد
جنوبی ایشیاء کے مسلمان کا المیہ یہ رہا ہے کہ ہمیشہ سے دو گروہوں میں منقسم ہے۔ ایک وہ جو ماضی میں زندہ ہے ۔ عظمت اختہ کی داستانیں درزبان اور نشاۃ ثانیہ کا خواب حرز جاں تو ہے مگر اس کےلئے درکار قوت عمل سے اس کا دامن خال ہے۔ زمانہ حال کی تو تازہ ہوا بھی اسے گوارا نہیں مگر ماضی سے بھی روشنی اور لائحہ عمل کرنے پر آمادہ نہیں۔جو بھی پدرم سلطان بود کا نعرہ لگائے آنکھیں بند کرکے اس کے پیچھے ہولیتا ہے۔ نقصان اٹھاتا ہے مگرتجزیہ کرنے کے بجائے دشمنوں کو کوسنے پر اکتفا کرتا ہے۔
دوسرا طبقہ ان پر مشتمل ہے جو لارڈ میکالے کی سوچ کے حامل ہیں۔ دانش افرنگ کے یہ اسید ماضی سے ہر رشتہ توڑ کر جدیدیت کا طوق گلے میں ڈالنے کو ہی زندگی کا حاصل خیال کرتے ہیں۔
ایک بلاگر، ایک کتاب از منظرنامہ
کچھ دن پہلے م بلال م بھائی کے بلاگ کی ایک پوسٹ پڑھ رہا تھا جس میں انہوں نے منظر نامہ کی جانب سے ماضی میں شروع کی جانے والی مہم “ایک بلاگر ایک کتاب” کا ذکر کیا. جس میں اردو بلاگران سے کہا گیا کہ وہ کوشش کرکے کوئی ایک کتاب کمپوز کرکے اپنے بلاگ پہ پیش کریں. جب میں نے یہ دیکھا تو مجھے کافی اچھا محسوس ہوا اور میں نے بھی ایک اردو کتاب جو کہ آج کل میرے زیر مطالعہ ہے “ایفائے عہد از جنرل (ر) حمید گل” کو خود کمپوز کرکے اپنے بلاگ پہ پیش کرنے کا فیصلہ کیا. ان شاء اللہ میں اس کتاب کے ابواب وقتا فوقتا آپ تمام قارئین کے مطالعہ کےلئے اپنے بلاگ پہ پیش کرتا رہوں گا اور کتاب کی کمپوزنگ مکمل ہوجانے پہ مکمل کتاب پی ڈی ایف فارمیٹ میں بھی فراہم کردی جائے گی.امید کرتا ہوں کہ آپ تمام دوستوں کی جانب سے حوصلہ افزائی ہوتی رہے گی
بنوں جیل پر حملہ ، نیٹو سپلائی بحالی پر آمادگی کے خلاف ردِ عمل؟
عوامی سطح پر فوری تاثر تو یہی ہے کہ یہ پاکستان کی پارلیمنٹ کی جانب سے نیٹوسپلائی کی مشروط بحالی پر آمادگی کا ردعمل ہے۔ بنوں جیل پر ہونے والے اس حملے میں پچیس گاڑیوں میں سوار ڈیرھ سو عسکریت پسندوں نے حصہ لیا۔ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب ایک بج کر پچیس منٹ پر حملہ آور ہوئے اور 386 قیدیوں کو چھڑا کر لےگئے۔ ان میں پھانسی گھاٹ کے 22 قیدی اور 5 خواتین بھی شامل ہیں۔ حملہ آوروں کا ٹارگٹ عدنان رشید اور دیگر بعض اہم طالبان کمانڈر تھے۔ عدنان رشید سابق صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف حملہ کیس کا ملزم ہے۔ ہری پور جیل سے حال ہی میں بنوں جیل منتقل کیاگیا تھا۔ تاہم سوموار کے روز پچاس سے زائد قیدی رضاکارانہ طور پر واپس آگئے جو کم سزا کے کیسوں میں ملوث تھے۔ حملہ آورمین گیٹ کو راکٹ سے تباہ کرنے کے بعد جیل کے اندر داخل ہوئے اور جیل کے دوسرے اور تیسرے گیٹ کو بموں سے اڑا کر پہلے پھانسی گھاٹ گئے اور وہاں قید 22 قیدیوں کو رہاکرانے کے بعد دیگر چھ بیرکوں کو نشانہ بنایا اور
ماں نے مجھ سے جھوٹ بولا

میری ماں ہمیشہ سچ نہیں بولتی۔۔
آٹھ بار میری ماں نے مجھ سے جھوٹ بولا۔۔۔
٭یہ کہانی میری پیدائش سے شروع ہوتی ہے۔۔میں ایک بہت غریب فیملی کا اکلوتا بیٹا تھا۔۔ہمارے پاس کھانے کو کچھ بھی نہ تھا۔۔۔اور اگر کبھی ہمیں کھانے کو کچھ مل جاتا تو امی اپنے حصے کا کھانا بھی مجھے دے دیتیں اور کہتیں۔۔تم کھا لو مجھے بھوک نہیں ہے۔۔۔یہ میری ماں کا پہلا جھوٹ تھا۔
٭جب میں تھوڑا بڑا ہوا تو ماں گھر کا کام ختم کر کے قریبی جھیل پر مچھلیاں پکڑنے جاتی اور ایک دن اللہ کے کرم سے دو مچھلیاں پکڑ لیں تو انھیں جلدی جلدی پکایا اور میرے سامنے رکھ دیا۔میں کھاتا جاتا اور جو کانٹے کے ساتھ تھوڑا لگا رہ جاتا اسے وہ کھاتی۔۔۔یہ دیکھ کر مجھے بہت دکھ ہوا ۔۔میں نے دوسری مچھلی ماں کے سامنے رکھ دی ۔۔اس نے واپس کر دی اور کہا ۔۔بیٹا تم
بلوچستان: کیا کچھ ہونے والا ہے؟

یہ واقعہ محسن ِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے خود مجھے سنایا تھا۔ یہ 1998ءکی بات ہے، خدا کی نصرت، قوم کی دعاﺅںاوراپنے مخلص رفقا کی اَن تھک محنت اورشب و روز کی قربانیوں کی بدولت ڈاکٹر صاحب ”چاغی“کے مقام پر ایٹمی دھماکہ کاکامیاب تجربہ کرچکے تھے، یوں پوری پاکستانی قوم ڈاکٹر صاحب کو نجات دہندہ کے طور پر دیکھ رہی تھی، ایٹمی دھماکہ کے تجربہ کے بعد محسنِ پاکستان اپنے ایک رفیق (غالبا ڈاکٹر اشفاق….نام بھول رہا ہوں) کے ہمراہ ہیلی کاپٹر کے ذریعہ کوئٹہ پہنچے،ان کے استقبال کے لیے پورا بلوچستان اُمڈ آیا تھا،ڈاکٹر صاحب جیسے ہی ہیلی پیڈ پر اُترے، بلوچ سرداروں نے آگے بڑھتے ہوئے ان کو گلے لگا کر بھینچ لیا، ایک سردار نے اپنی بھاری بھرکم پگڑی اُتار کر محسن ِ پاکستان کے پیروں پر رکھ دی اور کہنے لگے: ”ڈاکٹر صاحب!بلوچ قوم کی عزت،فخر اورمان آپ پر قربان….آپ نے ہمیں تحفظ دیا،ہم اس کا قرض کبھی نہیں چکاسکیں گے،آپ ہمارے محسن ہیں“۔
تاریخ گواہ ہے

تاریخ گواہ ہے کہ غرور و تکبر کے نشے میں بدمست لوگوں اورہاتھیوں کا انجام ہولناک ہوا، نمرود سر میں جوتیاں کھاتا مرا تو فرعون دریائے نیل میں غرق ہو کر تا با ابد نشانِ عبرت بن گیا، شداد، سامری اور قارون جیسے بدبخت نہ رہے مگرہوسِ زر کا لباس پہنے گورے لوگ آج بھی کالی کرتوتوں میں اُن کے گمشدہ خزانوں کی تلاش میں کہیں ملک و ملت سے غداری کا طعوق پہنے در بہ در ہیں اور کہیں صلیبی بادشاہ گروں کے کمین بن کر کاسہ و کشکول لئے تماشہء ذلت ۔ آج یذید کی قبر پر فاتحہ پڑھنے والاکوئی نہیں اور چنگیز خان کی قبر کا کہیں نام و نشان یا اتا پتہ تک موجود نہیں دنیا پر حکمرانی کا خواب دیکھنے والا ہٹلر سائنایڈ کا کیپسول لے کر اپنی محبوبہ ایوا براؤن کے ساتھ قبر میں اُتر گیا تو اُس کے اطالوی حلیف مسولینی کی لاش کو اُسی کی قوم نے کئی دنوں تک
انصاف کی اپیل

اسلام علیکم
گھر میں مرمت کی و جہ سے آن لائن نہیں ہو رہا۔مجھے چند ایک واقعات کی وجہ سے مجھے یہ کالم لکھنا پڑا۔
گزشتہ ایک سال سے میرا شہر خانیوال (خاص کر کالونی نمبر1 ،2،3) ڈاکوؤں کے رحم وکرم پر ہے۔آئے روز یہاں کوئی نا کوئی واقعات ہوتے رہتے ہیں۔جان ومال کا کیا کرنا بس عزتیں محافظ رہیں۔یہاں جو بھی ڈاکیتی ہوتی ہے ساتھ ہی ان گھر رہنے والی عورتوں کی عزت بھی داغ دار کر جاتے ہیں۔کل ہی ایک گھر میں ڈاکیتی ہوئی اور 60 تولے سونا اور 70 ہزار نقدی لوٹ لی۔اور جاتے جاتے ان شیطین نے اُس گھر کی عورتوں کی عزت سے بھی گندا کھیل کھیلا۔اس واقعے سے چند روز پہلے بھی ایک میں یہ لوگ داخل ہوئے اور وہاں ایک بزرگ خاتون تھی۔اور اس کی بہو ئیں اپنے
بیس پنس اور ایمان

سالوں پہلے کی بات ہے جب ایک امام مسجد صاحب روزگار کیلئے برطانیہ کے شہر لندن پُہنچے تو روازانہ گھر سے مسجد جانے کیلئے بس پر سوار ہونا اُنکا معمول بن گیا۔
لندن پہنچنے کے ہفتوں بعد، لگے بندھے وقت اور ایک ہی روٹ پر بسوں میں سفر کرتے ہوئے کئی بار ایسا ہوا کہ بس بھی وہی ہوتی تھی اور بس کا ڈرائیور بھی وہی ہوتا تھا۔
ایک مرتبہ یہ امام صاحب بس پر سوار ہوئے، ڈرائیور کو کرایہ دیا اور باقی کے پیسے لیکر ایک نشست پر جا کر بیٹھ گئے۔ ڈرائیور کے دیئے ہوئے باقی کے پیسے جیب میں ڈالنے سے قبل دیکھے تو پتہ چلا کہ بیس پنس زیادہ آگئے ہیں۔


مئی ۰۳ ، ۲۰۱۲
خاموشاش تماشائی

